کاروار:6/اپریل(ایس اؤنیوز)غیر قانونی اور مخفی طورپر ذخیرہ کردہ ریت کے مقام پر چھاپہ مارنے جب محکمہ تحصیل کے افسران اور عملہ سنکیری نامی مقام پر پہنچا تو آفسران نے الزام لگایا ہے کہ اس موقع پر کچھ لوگوں کی جانب سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ضلع ڈپٹی کمشنر کو دی گئی شکایت کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر فوزیہ ترنم کی رہنمائی میں جائے وقوع پرجب چھاپہ مارا گیا تو اُس وقت ریت وہاں سے دوسری جگہ منتقل کی جارہی تھی ، عملے نے ریت منتقلی کو روکنے کی کوشش کی تو سپلائی کرنے والوں نے سرکاری عملے کو آڑے ہاتھوں لیا ، جب موبائیل کے ذریعے وڈیو بنانے کی کوشش کی گئی تو موبائل کو چھین کرحملہ کرنے کی کوشش کی گئی، حالات کو بگڑتے دیکھ کر عملے نے ڈی سی سے رابطہ کرتے ہوئے پولس فورس منگوائی، جس سے آفسران حملہ کی زد میں آنے سے بچ گئے۔
بتایا گیا ہے کہ سنکیری کے چھوٹی مسجد کے قریب اور جگت کٹا کے قریب 23ہزار روپئے مالیت کے 2لوڈ ریت کو ضبط کرلیا گیا ہے ، جائے وقوع کا اسسٹنٹ کمشنر فوزیہ ترنم نے دور ہ کرتے ہوئے معائنہ کیا۔ حملے میں تحصیل عملہ شری دھر نائک، دامودرنائک، آئی ایچ خان ، یکناتھ گوڈا موجود تھے۔ ضبط شدہ ریت کو متعلقہ کمیٹی کو منتقل کیا گیا ہے۔